انٹرنیشنل

امریکی حملے: مہینوں کی سفارتی کوششیں ضائع ہو گئیں، ایرانی وزارتِ خارجہ

تہران نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا

ایران نے اپنی سرزمین پر نئے امریکی حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان فوجی کارروائیوں نے گزشتہ کئی ماہ سے جاری تمام سفارتی کوششوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں ان حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ امریکا کے یہ اقدامات خطے اور دنیا کے امن کو شدید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے عسکری ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے ایک نئے مرحلے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق، ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی ایرانی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔

ایران نے امریکا کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی ہر کوشش کو سبوتاژ کیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے ایرانی انتظامات میں مداخلت کر کے اس اہم بحری راستے کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، جس سے عالمی تجارت اور جہاز رانی کے لیے نئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا یہ تنازع عالمی منڈیوں، تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے