انٹرنیشنل

ایرانی پراکسیز کے خطرات: نیٹو اجلاس سے واپسی پر صدر ٹرمپ کو آخری لمحے میں طیارہ بدلنا پڑ گیا

قطر کے تحفے میں ملنے والے ‘ایئر فورس ون’ کی سیکیورٹی پر سوالات، نیویارک ٹائمز کا سنسنی خیز دعویٰ

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) — امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی پراکسیز سے درپیش ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے باعث نیٹو سربراہ اجلاس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آخری لمحے میں اپنا طیارہ تبدیل کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے صدر ٹرمپ کو ترکیے سے روانگی کے وقت قطر کی طرف سے تحفے میں دیے گئے نئے ایئر فورس ون کے بجائے پرانا صدارتی طیارہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا، کیونکہ نئے طیارے میں مخصوص سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کی جدید ٹیکنالوجی تاحال نصب نہیں کی جا سکی تھی۔

طیارے کی تبدیلی اور سیکیورٹی پر تحفظات

اخبار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے خفیہ اداروں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ترکیے سے انگلینڈ کے سفر کے لیے پرانا ایئر فورس ون استعمال کیا۔ اس واقعے کے بعد قطر کی جانب سے تحفے میں ملنے والے طیارے کے حفاظتی انتظامات اور سیکیورٹی خصوصیات پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حساس دورانیے کے دوران امریکی صدر اور صدارتی طیارہ دونوں ممکنہ طور پر ایرانی خطرات کی زد میں آ سکتے تھے۔

ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر غور

یہ سنسنی خیز دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اپنے سینئر مشیروں اور کابینہ اراکین کے ساتھ ایک اہم اجلاس کے دوران ایران کے خلاف عسکری حملوں میں مزید شدت لانے یا نہ لانے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ 7 جولائی کو ترکیے میں منعقدہ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے اسی نئے ‘ایئر فورس ون’ پر گئے تھے، تاہم سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر واپسی کے سفر میں انہوں نے پرانے صدارتی طیارے کا استعمال کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے