ایرانی نظام اپنی تاریخ کی کمزور ترین سطح پر، خاتمہ اب دسترس میں ہے: اسرائیلی وزیراعظم
تہران میں حکومت کی تبدیلی اسرائیل کا مرکزی ہدف قرار؛ شادی کی تقریب پر بمباری کے ایرانی دعوے کی وائٹ ہاؤس سے تردید و تحقیقات
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا اسلامی جمہوری نظام اس وقت شدید زوال کا شکار ہے اور اسے اقتدار سے ہٹانا اب اسرائیل اور امریکا کے لیے مکمل طور پر ممکن ہو چکا ہے۔ فوجی قیادت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرتے ہوئے تہران میں حکومت کی تبدیلی کو اسرائیل کے بنیادی اہداف میں شامل کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران میں ایک شادی کی تقریب پر بمباری اور متعدد خواتین و بچوں کی شہادت کے ایرانی دعوے پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ردعمل دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے اس واقعے پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی، تاہم واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
امریکی نائب صدر نے ایرانی میڈیا کی رپورٹنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران غلطیوں کا امکان موجود رہتا ہے اور امریکا ان سے سبق سیکھتا ہے۔ بریفنگ کے دوران انہوں نے معاشی مشکلات کا ملبہ سابق صدر جو بائیڈن کی پالیسیوں پر ڈالا اور وینزویلا کے ساتھ 65 ارب بیرل کے تیل معاہدے کو موجودہ انتظامیہ کی اہم کامیابی قرار دیا۔

