پمز نرسری آتشزدگی: 14 نوزائیدہ بچے بحق، وزیراعظم کی 5 رکنی کمیٹی تشکیل، ابتدائی حقائق سامنے آ گئے
وفاقی حکومت کا 48 گھنٹوں میں ابتدائی رپورٹ کا حکم، آکسیجن لائنز کے باعث ایک منٹ میں آگ پھیلنے کی تصدیق
اسلام آباد: پمز ہسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MCH) وارڈ میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نو مولود بچے دم توڑ گئے۔ وزیراعظم نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے 5 رکنی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے، جس نے موقع پر پہنچ کر کام کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی رپورٹ بھی جاری کر دی گئی ہے۔
خبر رساں ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال کی این آئی سی یو نرسری میں اچانک شارٹ سرکٹ کے بعد آگ نے پورے وارڈ کو لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں زیر علاج 15 میں سے صرف 1 بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔ دلخراش واقعے کے بعد ہسپتال کی عمارت میں شدید بھگڈر مچ گئی اور رقت آمیز مناظر دیکھنے میں ائے۔ تمام بچوں کی میتوں کو منتقل کر دیا گیا ہے، جنہیں ڈی این اے ٹیسٹنگ کے بعد لواحقین کے حوالے کیا جائے گا۔
تحقیقاتی کمیٹی کا ٹی او آرز اور کارروائی
وزیراعظم کی جانب سے سابق وفاقی سیکرٹری شاہد خان کی سربراہی میں تشکیل دی گئی 5 رکنی کمیٹی نے پمز کا دورہ کیا، جہاں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے انہیں جائے حادثہ پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی واقعے کے وقت، آگ لگنے کی اصل وجہ اور ریسکیو اداروں (فائر برگیڈ و ریسکیو 1122) کے رسپانس ٹائم کی جانچ کرے گی۔ اس کے علاوہ ہسپتال میں موجود فائر سیفٹی ایکوپمنٹ، ہنگامی انخلاء کے راستوں اور بچوں کو منتقل کرنے کے عمل کی قانونی و فنی بنیادوں پر تفتیش کی جائے گی۔ کمیٹی غفلت یا لاپرواہی کے مرتکب افسران اور عملے کی نشان دہی کر کے سخت قانونی کارروائی کی سفارش کرے گی۔ یہ کمیٹی اگلے 48 گھنٹوں میں اپنی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، جبکہ حتمی رپورٹ مکمل تحقیقات کے بعد سونپی جائے گی۔
ابتدائی تفتیشی رپورٹ کے اہم انکشافات
ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے سامنے آنے والی ابتدائی رپورٹ کے مطابق صبح 06:38 بجے نرسری میں ایئر کنڈیشنر کمپریسر سے چنگاری نکلی، جس کے بعد صبح 06:39 بجے زوردار دھماکا ہوا اور چھت کا کچھ حصہ نیچے آ گرا۔
رپورٹ کے مطابق انکیوبیٹرز کے ساتھ منسلک آکسیجن سپلائی لائنز کی وجہ سے آگ نے لمحوں میں ہولناک روپ دھار لیا۔ حادثے کے وقت 2 ڈاکٹرز اور 2 نرسیں ڈیوٹی پر موجود تھیں جنہوں نے سیکیورٹی عملے کے ساتھ مل کر جان پر کھیل کر 2 مرتبہ نرسری کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔
عملے نے 1 نومولود بچے، ملحقہ کمرے سے 4 دیگر بچوں اور 3 ماؤں کو بحفاظت نکال لیا۔ اس کے علاوہ ملحقہ گائنی وارڈ میں داخل 73 مریضوں کو بھی فوری محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ ہسپتال میں نصب 35 فائر ایکسٹنگوشرز استعمال کیے گئے اور تمام ہنگامی راستے کھلے پائے گئے۔
پمز انتظامیہ نے واقعے پر شدید غم و غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے اور ریسکیو میں حصہ لینے والے طبی عملے کی کوششوں کو سراہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق حتمی وجوہات کا تعین تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔

