انٹرنیشنل

امریکی فضائی کارروائیاں: ایرانی ساحلی دفاعی نظام اور میزائل تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ

امریکی افواج نے مسلسل تیسری رات ایران کے مختلف فوجی اہداف پر بمباری کی ہے، جس کی تصدیق ایرانی میڈیا نے بھی کی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق، یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر واشنگٹن کے وقت کے مطابق شام پونے پانچ بجے شروع کی گئی اور لگ بھگ پانچ گھنٹے تک جاری رہی۔ اس فوجی آپریشن کا مقصد تجارتی جہاز رانی کو نقصان پہنچانے کی ایرانی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔ حملوں میں بوشہر، بندر عباس، چاہ بہار، جاسک، کنارک اور ابو موسیٰ کے علاقوں میں قائم ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون مراکز کو جدید ترین ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج نے واضح کیا ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی ہائی الرٹ پر ہیں۔

دوسری جانب، ایرانی میڈیا نے بوشہر پر دوبارہ فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے، تاہم فوری طور پر نقصانات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

اسی دوران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کا اصل محافظ ہے، اور 20 فیصد ٹول بہت زیادہ ہے۔

ادھر پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں دو ایسے سپر آئل ٹینکروں کو ناکارہ بنا دیا ہے جو بارودی سرنگوں والے ممنوعہ راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ امریکہ تجارتی جہازوں کو غیر قانونی راستے استعمال کرنے پر اکسا رہا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے متنبہ کیا ہے کہ اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر توانائی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے