انٹرنیشنل

سعودی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تو سخت حساب لیں گے؛ صدر ٹرمپ کی حوثیوں کو کھلی دھمکی

حوثی گروپ نےتمام عالمی شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا کہ وہ سعودی بندرگاہوں پر سامان کی لوڈنگ یا ان لوڈنگ سے گریز کریں، ورنہ ان کے جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

واشنگٹن (نیوز ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کو شدید نتائج کی خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے سعودی عرب کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرنے کی کوشش کی تو امریکا فوری اور فیصلہ کن جواب دے گا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، صدر ٹرمپ نے یہ دھمکی وائٹ ہاؤس میں لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ ایک اہم ملاقات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران دی۔

"ہم اس کا بندوبست کرنا اچھی طرح جانتے ہیں”

امریکی صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں عالمی جہاز رانی میں خلل ڈالنے یا سعودی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کا سوچا بھی تو امریکا اس صورتحال کو سختی سے نمٹنے کی تمام تر صلاحیت رکھتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا: "اگر انہوں نے ایسا کچھ کیا تو ہم اس کا بندوبست کریں گے۔ ہم ماضی میں بھی حوثیوں کو سبق سکھا چکے ہیں، جس کے بعد ایک طویل عرصے سے ہمیں ان کی جانب سے کوئی بڑا مسئلہ پیش نہیں آیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی کے باوجود حوثیوں نے امریکی افواج کے خلاف کوئی براہِ راست اقدام نہیں کیا۔

2025 کی فضائی مہم کا حوالہ

امریکی صدر نے بحیرہ احمر کے تجارتی راستے بند ہونے سے متعلق پیدا ہونے والے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت حوثیوں نے سمندری راستے روکے ہیں اور نہ ہی امریکا کو اس وقت کوئی بڑا مسئلہ درپیش ہے۔

انہوں نے 2025 میں حوثیوں کے خلاف دو ماہ تک جاری رہنے والی امریکی فضائی آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ اس سخت مہم کے بعد ہی جنگ بندی ہوئی تھی اور حوثیوں کی عسکری سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔

حوثیوں کے اعلان سے عالمی توانائی مارکیٹ میں تشویش

یہ نیا تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے تمام عالمی شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا کہ وہ سعودی بندرگاہوں پر سامان کی لوڈنگ یا ان لوڈنگ سے گریز کریں، ورنہ ان کے جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اس کھلی دھمکی کے بعد سعودی خام تیل لے جانے والے کئی اہم آئل ٹینکروں نے بحیرہ احمر کا راستہ بدل کر متبادل راستے اختیار کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت شدید خطرات کا شکار ہو گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے