پاکستان

فضل الرحمان کا فوجیوں کی قربانی کو تنخواہ کا معاوضہ کہنا اسلامی تعلیمات اور اخلاق کے منافی ہے: احسن اقبال

مولانا صاحب کے بیان سے یہ تاثر ملا جیسے انہوں نے جذبات کی رو میں بہہ کر شہداء کی عظیم قربانیوں کی قدر و منزلت کو کم کر کے پیش کیا،

وفاقی وزیر احسن اقبال نے سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی جوانوں کی بے مثال قربانی کو محض تنخواہ کا معاوضہ قرار دینا ناانصافی ہے، جو نہ تو اخلاقی تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر اپنے ایک بیان میں احسن اقبال نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ احترام کا رشتہ ہونے کے ناطے وہ چند گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب کے بیان سے یہ تاثر ملا جیسے انہوں نے جذبات کی رو میں بہہ کر شہداء کی عظیم قربانیوں کی قدر و منزلت کو کم کر کے پیش کیا، جس سے کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

احسن اقبال نے واضح کیا کہ فوجی جوان اور افسران محض ملازمت نہیں کرتے بلکہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن کا دفاع کرتے ہیں۔ آج اگر عوام گھروں، مساجد، مدارس اور جلسوں میں پرامن بیٹھے ہیں تو یہ ان سپاہیوں کی بدولت ہے جو سرحدوں اور دہشت گردی کے خلاف محاذ پر جان کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ وہ یہ جانتے ہوئے بھی آگے بڑھتے ہیں کہ اگلا لمحہ ان کا آخری ہو سکتا ہے اور ان کے پیچھے بیوی بچے اور والدین تنہا رہ جائیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسی بے مثال قربانی کو تنخواہ کا معاوضہ کہنا سراسر غلط ہے۔ تنخواہ کسی خدمت کا صلہ تو ہو سکتی ہے لیکن جان کے نذرانے کو کسی دنیاوی قیمت میں نہیں تولا جا سکتا، اور اسلامی تعلیمات بھی ہمیں یہی سکھاتی ہیں کہ شہادت کا مرتبہ ہر دنیاوی معاوضے سے بلند ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہداء قوم کی آزادی اور وقار کے محافظ ہیں اور ان کا احترام کرنا ہماری قومی، سیاسی، اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔ اختلافِ رائے سب کا حق ہے، لیکن شہداء کے مرتبے پر بات کرتے ہوئے ایسے الفاظ سے گریز کرنا چاہیے جو ان کے خاندانوں اور پوری قوم کی دل آزاری کا باعث بنیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے