پاکستان

سارا بجٹ آزاد کشمیر پر نہیں لگایا جا سکتا، پورے ملک کو ساتھ لے کر چلنا ہے: خواجہ سعد رفیق

آزاد کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے دہائیوں پر محیط بیڈ گورننس کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات ناقابلِ تسلیم تھے

سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک کا سارا بجٹ آزاد کشمیر پر نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ حکومت نے پورے ملک کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے آزاد کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے دہائیوں پر محیط بیڈ گورننس کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات ناقابلِ تسلیم تھے۔ وفاقی حکومت کی تمام گرانٹ پہلے ہی سستی بجلی کی فراہمی پر لگ رہی تھی، ایسے میں ترقیاتی کاموں کے مطالبے کے ٹائم فریم پر تو بات ہو سکتی ہے لیکن سارا بجٹ وہاں صرف نہیں کیا جا سکتا۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ معاملات تب خراب ہوئے جب مخصوص عناصر نے اسٹیج پر آکر پاکستان مخالف بیانیے اور الحاقِ پاکستان جیسے حساس معاملات کو مطالبات میں شامل کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے 80 برس اپنا پیٹ کاٹ کر اتنی بڑی فوج اس لیے تیار کی ہے کہ کشمیر کے معاملے پر بھارت کے سامنے شکست نہ ہو، اور پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کاز کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ انہوں نے دونوں فریقین پر پیچھے ہٹنے اور پاکستان مخالف عناصر کو سائیڈ لائن کرنے پر زور دیا۔

آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے سابق وزیر کا کہنا تھا کہ پچھلی اسمبلی کی مدت ختم ہو چکی ہے اور نئی اسمبلی ہی اب مسائل کا حل نکالے گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے بائیکاٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل سے باہر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ الیکشن اس بات کا تعین کرے گا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کا رشتہ کیا ہے، اور بھاری ووٹنگ سے دشمنوں کی پیدا کردہ دراڑیں ختم ہو جائیں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی تمام جماعتیں انتخابی نتائج کو دل سے تسلیم کریں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے