سولر فیول بنانے والا مصنوعی ضیائی تالیف کا نظام تیار
اوساکا میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے محققین نے اس ٹیکنالوجی کا مظاہرہ ایکسپو 2025 اوساکا میں بھی کیا تھا
محققین نے مصنوعی فوٹوسنتھیسز پر مبنی ایک جدید نظام تیار کیا ہے جو سورج کی روشنی، پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو استعمال کرتے ہوئے براہِ راست قابلِ استعمال ایندھن میں تبدیل کر سکتا ہے اور اس کے لیے نہ بیٹریوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی پیچیدہ الیکٹرانک کنٹرول سسٹمز کی۔
یہ پیش رفت قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس سے شمسی ایندھن کی پیداوار نہ صرف سادہ ہو سکتی ہے بلکہ اس کی مجموعی لاگت میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
خودکار نظام سے کارکردگی میں بہتری
مصنوعی فوٹوسنتھیسز کا بنیادی مقصد قدرتی عمل کی نقل کرنا ہے جس میں پودے سورج کی روشنی کو کیمیائی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ سائنس دان اسی عمل کو استعمال کرتے ہوئے ایسا نظام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایک ساتھ ایندھن پیدا کرے اور ماحول میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کرے۔
اس نئی ایجاد میں سب سے بڑا مسئلہ یعنی دن بھر سورج کی روشنی کی شدت میں تبدیلی کو حل کر لیا گیا ہے۔ عام طور پر ایسے سسٹمز کو بیٹریوں اور بیرونی کنٹرول یونٹس کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس نئے الیکٹرولائزر نے یہ ضرورت ختم کر دی ہے۔ یہ آلہ خود بخود روشنی کی شدت کے مطابق اپنی برقی کارکردگی کو ایڈجسٹ کرتا ہے، جس سے ایندھن کی پیداوار زیادہ مستحکم ہو جاتی ہے۔
تحقیقی ٹیم نے اس ٹیکنالوجی کو کھلے ماحول میں آزمایا تاکہ مختلف موسموں اور روشنی کی حالتوں میں اس کی کارکردگی دیکھی جا سکے۔ نتائج کے مطابق یہ نظام کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کو فارمیٹک ایسڈ (Formic Acid) میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہا، جو نہ صرف ایندھن کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے بلکہ توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے بھی کارآمد ہے۔

