پی ٹی آئی کا اچکزئی پر دباؤ، ٹکراؤ کی راہ پر چل پڑے
مذاکرات کی بجائے بانی کے علاج کا معاملہ شدت اختیار کر گیا
5 ماہ قبل جب محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے لایا گیا تھا تو یہ امید تھی کہ وہ پی ٹی آئی کو تصادم کی سیاست سے نکال کر مذاکرات کی طرف لائیں گے تاہم گزشتہ روز وہ خود بھی اسی ڈگر پر چلتے نظر آئے۔ شریف خاندان کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات اس امید کی بنیادی وجہ تھے لیکن گزشتہ روز قومی اسمبلی کے سیشن سمیت حالیہ پارلیمانی کارروائیاں مذاکرات کے بجائے مسلسل تصادم کی عکاسی کرتی ہیں۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران اچکزئی نے موجودہ حکومت کو "غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے اس پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے پوچھا کہ اپوزیشن نے ایسا کیا جرم کیا ہے کہ انہیں احتجاج اور ریلیوں کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کے آئینی و قانونی ہونے کا دفاع کیا۔یہ تلخ کلامی اس وقت مزید بڑھ گئی جب سپیکر نے مداخلت کی اور اچکزئی کو تنبیہ کی کہ ایوان کے اندر قومی اداروں پر تنقید نہ کی جائے۔اپوزیشن نے سپیکر کے ان ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے انہیں پارلیمنٹ میں اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔ اچکزئی کو حکومت سے مذاکرات کے لیے لایا گیا تھا، ان مذاکرات کے ذریعے سب سے اہم اور فوری مسئلہ بانی پی ٹی آئی کے آنکھ کا علاج اور ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی تھی، تاہم احتجاج اور دھرنے اس مطالبے کو پورا نہ کرواسکے،پی ٹی آئی کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی۔
علی محمد خان نے کا کہناتھا کہ وزیر اعظم نے محمود اچکزئی کو دو بار مذاکرات کی دعوت دی ہے، اب انہیں ایک جرات مندانہ فیصلہ کرنے اور اس مقصد کو پورا کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے انہیں مقرر کیا گیا تھا۔یہ دباؤ صرف باتوں تک محدود نہیں ہے، پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہد خٹک نے کاکہنا ہے کہ اگر نتائج سامنے نہ آئے تو پارٹی اچکزئی اور علامہ ناصر عباس دونوں کو ان کے عہدوں اور اختیارات سے محروم کر سکتی ہے۔

