آبنائے ہرمز میں ایرانی بحریہ کی کارروائی: بھارتی آئل ٹینکر ‘ہانا’ کی پیش قدمی روک دی گئی
ٹرمپ کے دعووں کے برعکس ہرمز پر کشیدگی برقرار، عمان کوریڈور کی بحالی پر سوالیہ نشان
تہران/واشنگٹن(اردو خبرنامہ) آبنائے ہرمز میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایرانی بحریہ نے "ہانا” نامی ایک بھارتی آئل ٹینکر کو اس اہم بحری گزرگاہ کے جنوبی حصے سے گزرنے سے روک دیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار فرار ہو چکے ہیں اور آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول امریکی افواج کے پاس ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق، ایرانی جنگی بحری جہاز نے بھارتی ٹینکر کو ریڈیو پر الرٹ جاری کیا اور آگے بڑھنے سے باز رکھا۔ اس اقدام کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہرمز کے جنوبی راستے سے کسی بھی تجارتی یا تیل بردار جہاز کی نقل و حرکت دیکھنے میں نہیں آئی، جس سے خطے میں درپیش غیر یقینی صورتحال مزید واضح ہو گئی ہے۔
ایران اور عمان کے مابین ایک عارضی بحری راستے "عمان کوریڈور” کے قیام کے لیے بات چیت جاری ہے تاکہ خلیج میں پھنسے جہازوں کی بحفاظت ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔ اگرچہ اس پیش رفت سے عالمی توانائی مارکیٹ کو تیل کی ترسیل بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی، لیکن بھارتی ٹینکر کو روکے جانے کے واقعے نے اس نئے راستے کی افادیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عالمی شپنگ کمپنیاں اور انشورنس ادارے اس خدشے کا شکار ہیں کہ آیا عمان کوریڈور واقعی ایک مستقل اور محفوظ متبادل بن سکے گا یا نہیں۔ عالمی تیل کی تجارت میں آبنائے ہرمز کی کلیدی اہمیت کے باعث یہاں پیدا ہونے والی کوئی بھی رکاوٹ خام تیل کی قیمتوں اور عالمی سپلائی چین پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ بھارتی آئل ٹینکر سے متعلق واقعے پر متعلقہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں کا باضابطہ موقف آنا ابھی باقی ہے۔

