انٹرنیشنل

نئے برطانوی وزیرِاعظم اینڈی برنہم کا قوم سے پہلا خطاب، مہنگائی میں ریلیف اور بڑے معاشی منصوبوں کا اعلان

توانائی کے بلوں اور بس کرایوں میں کمی اولین ترجیح؛ برطانوی معیشت کے لیے 10 سالہ قومی منصوبے کا فیصلہ

لندن: اینڈی برنہم نے بکنگھم پیلس میں شاہ چارلس سے ملاقات کے بعد باضابطہ طور پر برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم کا منصب سنبھال لیا ہے۔ سابق وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد وہ گزشتہ ایک دہائی میں برطانیہ کے چھٹے وزیرِ اعظم بن گئے ہیں۔ منصب سنبھالنے کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ملک کے لیے ایک "ٹرننگ پوائنٹ” ثابت ہوگی۔

ڈاؤئنگ اسٹریٹ پہنچنے پر خطاب کرتے ہوئے نو منتخب وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے فوری ریلیف اقدامات کا آغاز منگل سے ہی کیا جا رہا ہے۔ حکومت توانائی کے بلوں، بس کرایوں اور دیگر بنیادی اخراجات میں کمی کے لیے خصوصی پیکیج متعارف کرائے گی۔ اس کے علاوہ، رواں سال کے آخر میں برطانیہ کی سیاسی اور معاشی سمت متعین کرنے کے لیے ایک 10 سالہ قومی منصوبہ بھی پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے بے گھر افراد کے مسئلے کے خاتمے، کونسل گھروں کی تعمیر اور اختیارات کی مقامی سطح پر منتقلی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کو عوامی خدمت کا حقیقی ذریعہ بنایا جائے گا۔ اینڈی برنہم آج سے اپنی کابینہ کی تشکیل کا عمل بھی شروع کریں گے۔

اس سے قبل، سابق وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے بکنگھم پیلس جا کر شاہ چارلس کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ الوداعی خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اب برطانیہ ایک مضبوط اور منصفانہ ملک ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انہوں نے تاریخی شکست کے بعد پارٹی کو فتح دلائی، معیشت کو ترقی دی اور امیگریشن میں کمی لائے۔ انہوں نے نئے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا۔

دوسری جانب، اپوزیشن جماعت کنزرویٹو کی لیڈر کیمی بیڈینوک نے نئے وزیرِ اعظم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی صورت ٹیکسوں میں اضافہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ لبرل ڈیموکریٹس نے سوشل کیئر کے منصوبوں پر حکومت سے تعاون کا اشارہ دیا ہے، جبکہ ریفارم یوکے نے ملک میں فوری عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے