بدنامِ زمانہ جنسی اسکینڈل: متاثرہ خاتون نے جیفری ایپسٹین کے جنسی جرائم کی ہوشربا داستان سنادی
متاثرہ خاتون نے شناخت چھپانے کی شرط پر بتایا کہ پیرس میں ایک ماڈلنگ اسکاؤٹ نے انہیں فیشن انڈسٹری میں شاندار مستقبل اور اہم شخصیات سے ملاقاتوں کے سبز باغ دکھا کر جیفری ایپسٹین سے ملوایا تھا۔
نیویارک/لندن: (اردو خبرنامہ)سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے جنسی استحصال کے نیٹ ورک سے متعلق برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی نئی دستاویزی تحقیق میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں ایک متاثرہ خاتون نے ایپسٹین کے جبری کنٹرول اور نفسیاتی حربوں کا پردہ چاک کیا ہے۔
متاثرہ خاتون نے شناخت چھپانے کی شرط پر بتایا کہ پیرس میں ایک ماڈلنگ اسکاؤٹ نے انہیں فیشن انڈسٹری میں شاندار مستقبل اور اہم شخصیات سے ملاقاتوں کے سبز باغ دکھا کر جیفری ایپسٹین سے ملوایا تھا۔ تاہم، بعد میں انہی وعدوں کو بنیاد بنا کر انہیں نیویارک کے ایک اپارٹمنٹ میں قید کر دیا گیا، جہاں وہ دیگر خواتین کے ہمراہ ‘اسسٹنٹ’ کے روپ میں ایپسٹین کی جنسی اور جسمانی غلامی پر مجبور تھیں۔
خاتون کے مطابق، ایپسٹین کسی کلٹ (مذہبی گروہ) کے سربراہ کی طرح نفسیاتی دباؤ، مالی انحصار، دھونس اور مسلسل نگرانی کے ذریعے خواتین کو قابو میں رکھتا تھا۔ وہ ان کے علاج، سفری دستاویزات، رہائش اور روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کو کنٹرول کرتا تھا اور یہاں تک کہ ان کی کمزوریاں جان کر انہیں بلیک میل کرتا تھا۔ خاتون نے انکشاف کیا کہ ایپسٹین نے انہیں ایک معمولی ٹیٹو ہٹانے کے لیے زبردستی غیر ضروری سرجری کروانے پر مجبور کیا، جس کے نشانات ان کے جسم پر آج بھی موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، نیٹ ورک کو پھیلانے کے لیے ایپسٹین خواتین کو نئی لڑکیاں لانے پر مجبور کرتا تھا اور ہر خاتون کو کم از کم ایک نئی لڑکی شامل کرنے کا ہدف دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ، خواتین کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز محفوظ رکھ کر انہیں خاموش رہنے پر ڈرایا جاتا تھا۔ ایپسٹین کی سابق معاون سارہ کیلن نے بھی امریکی کانگریس کے سامنے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایپسٹین کا بااثر کردار ایسا تھا کہ اس کی مخالفت کا تصور بھی ناممکن تھا۔
اس حوالے سے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر تارا کوئن کا کہنا ہے کہ صرف بچے ہی نہیں بلکہ بالغ افراد بھی بتدریج کی جانے والی نفسیاتی گرومنگ اور جبری کنٹرول کا شکار ہو سکتے ہیں، جہاں مجرم شکار کو دنیا سے تنہا کر کے اس پر اپنا تسلط قائم کر لیتا ہے۔
واضح رہے کہ کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے سنگین الزامات کا سامنا کرنے والا جیفری ایپسٹین سال 2019 میں نیویارک کی جیل میں ٹرائل شروع ہونے سے قبل مردہ پایا گیا تھا، جسے حکام نے خودکشی قرار دیا تھا۔ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ ان کی کہانی سامنے لانے کا مقصد دنیا کو یہ بتانا ہے کہ طاقتور اور امیر افراد کس طرح بالغ خواتین کو بھی اپنے شکنجے میں جکڑ سکتے ہیں۔

