دشمن کے مکمل ہتھیار ڈالنے تک امریکی اہداف پر حملے جاری رہیں گے: ایرانی سیکیورٹی چیف
امریکہ ایران کشیدگی میں شدت: پاکستان کی ثالثی ناکام، فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات اور شدید حملے
تہران (نیوز ڈیسک) — ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محمد باقر ذوالقدر نے اعلان کیا ہے کہ امریکی اہداف کے خلاف ایران کی نظامی کارروائیاں اس وقت تک ختم نہیں ہوں گی جب تک دشمن مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا اور مناب و لیمرد میں بچوں کے قتل عام کا قصاص نہیں لے لیا جاتا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سیکیورٹی چیف نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا کہ خطے میں اٹھنے والے دھوئیں کے بادل اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکی فوجی، سیکیورٹی یا مالیاتی مرکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی فورسز کے مسلسل اور ہدف پر مبنی حملے قوم کے غصے کا اظہار ہیں جو عالمی بالادستی کے نظام کے خلاف جاری رہیں گے۔
مذاکرات کی ناکامی اور جنگ بندی کا خاتمہ
یاد رہے کہ رواں برس 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کے بعد سے خطے میں شدید کشیدگی برقرار ہے۔ تنازع کے 40 روز بعد 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں عارضی جنگ بندی عمل میں آئی تھی، جس کے دوران ایران نے جوابی اقدامات کے طور پر آبنائے ہرمز کو بھی بلاک کر دیا تھا۔
بعد ازاں، 17 جون کو پاکستان ہی کی کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان حتمی جنگ بندی کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ہوئے، جس کے بعد سوئٹزرلینڈ اور قطر میں تیکنیکی سطح کے مذاکرات بھی ہوئے۔ تاہم، اسلام آباد میں طے شدہ تیسرے دورِ مذاکرات سے قبل دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے دوبارہ جنگ کا آغاز کر دیا۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ گزشتہ 13 روز سے ایران کے مختلف علاقوں میں مسلسل بمباری کر رہی ہے، جس میں مواصلاتی نظام، پل اور واٹر پلانٹس سمیت متعدد شہری تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 55 افراد شہید جبکہ 645 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب، ایرانی مسلح افواج نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون اور میزائلوں کے ذریعے خطے میں موجود مختلف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

