انٹرنیشنل

سپریم لیڈر سے روزانہ رابطہ ہے، تمام فیصلے ان کی ہدایات پر ہو رہے ہیں: ایرانی صدر

مسعود پزیشکیان کا قومی یکجہتی پر زور; سفارتی عمل پر غیر ذمہ دارانہ تنقید سے گریز کا مشورہ

تہران: ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کے تمام اہم فیصلے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی براہِ راست رہنمائی اور ہدایات کی روشنی میں کیے جا رہے ہیں اور ان کے ساتھ رابطوں میں روز بروز مزید استحکام آ رہا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق قومی یومِ صنعت و کان کنی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزیشکیان نے کہا: "ہر گزرتے دن کے ساتھ سپریم لیڈر تک ہماری رسائی اور مشاورت بڑھ رہی ہے۔ اب تک کے تمام تر اقدامات ان کی ہدایات کے مطابق منظم کیے گئے ہیں۔ ہمیں اپنے رہبر کی کامل حمایت حاصل ہے اور ہم اسی راستے پر پوری قوت سے گامزن رہیں گے۔”

صنعت کاروں کا کردار اور قومی یکجہتی

ایرانی صدر نے موجودہ حالات میں قومی اتحاد کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے ملکی صنعت کاروں اور پیداواری شعبے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شدید غیر ملکی پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود ایرانی صنعت کاروں نے معیشت کا پہیہ چلائے رکھا، جس کے باعث دشمن قوتیں اپنے شوم مقاصد میں ناکام ہوئیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ملکی پیداوار کو مضبوط بنانا اور سرمایہ کاروں کے مسائل حل کرنا حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔

خارجہ پالیسی اور داخلی تنقید پر موقف

داخلی سیاسی حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے صدر مسعود پزیشکیان نے ہدایت کی کہ سفارتی اور مذاکراتی عمل پر غیر ذمہ دارانہ تنقید سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے قومی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی اور مذاکراتی حکمتِ عملی اعلیٰ ترین قومی قیادت کی رہنمائی میں طے کی جاتی ہے، اس لیے تمام ریاستی اداروں کو اس پر یکسو اور متحد رہنا چاہیے۔

واضح رہے کہ ایران کے آئینی ڈھانچے کے تحت مسلح افواج، قومی سلامتی اور بنیادی خارجہ پالیسی سمیت تمام حتمی اور اہم امور کا فیصلہ کن اختیار سپریم لیڈر کے پاس ہوتا ہے، جبکہ صدر انتظامی امو ر کو چلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے