سائنسدانوں کا بڑا دعویٰ: بلیک ہول کی آخری سرحد ‘پوائنٹ آف نو ریٹرن’ کے نشانات دریافت
مشہور سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت ایک بار پھر سچ ثابت
ٹورانٹو(اردو خبرنامہ) کائنات کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک سے پردہ اٹھ گیا، سائنسدانوں نے پہلی بار بلیک ہول کے ‘ایونٹ ہورائزن’ یعنی اس آخری سرحد کے نشانات تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے روشنی بھی واپس نہیں آسکتی۔ کینیڈا کے پیری میٹر انسٹی ٹیوٹ فار تھیوریٹیکل فزکس کے سربراہ ڈاکٹر سِژینگ ما کے مطابق، جو چیز اب تک صرف سائنس فکشن فلموں کا حصہ تھی، اب ثقلی لہروں (Gravitational Waves) کی مدد سے اس کا حقیقی مطالعہ ممکن ہو چکا ہے۔بین الاقوامی جریدےنیچر میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ کامیابی دو بلیک ہولز کے ہولناک تصادم سے پیدا ہونے والی لہروں کے تجزیے سے حاصل ہوئی۔ جب یہ بلیک ہولز آپس میں ضم ہوئے تو کائنات میں پیدا ہونے والی لہروں سے خلا اور وقت کے مڑنے (Frame Dragging) کے شواہد ملے، جس نے مشہور سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کو ایک بار پھر سچ ثابت کر دیا۔ اگرچہ سائنسی حلقوں میں اس پر بحث جاری ہے، لیکن اسے خلائی سائنس میں ایک انقلابی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

