امریکی ڈالر کی اجارہ داری ختم کرنے کا عزم: ایران برکس نیو ڈیولپمنٹ بینک کا رکن بننے کے قریب
تہران کا عالمی مالیاتی نظام پر ڈالر کے انحصار اور امریکی پابندیوں کا اثر کم کرنے کے لیے اہم پیشرفت
ایران نے عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی اجارہ داری ختم کرنے اور مغرب کے زیرِ اثر مالیاتی نظام سے نکلنے کے لیے برکس (BRICS) کے ’نیو ڈیولپمنٹ بینک‘ (NDB) میں باضابطہ شمولیت کا عمل تیز کر دیا ہے۔
بھارت میں منعقدہ برکس کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے اجلاس کے دوران ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے انکشاف کیا کہ ایران جلد اس اہم بینک کا رکن بن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ برکس کا سب سے بڑا ثمر نیو ڈیولپمنٹ بینک کا قیام ہے اور ممبر ممالک کے درمیان قومی کرنسیوں میں تجارت سے امریکی ڈالر کے دباؤ کو مؤثر طریقے سے کم کیا جا سکے گا۔
ڈالر سے نجات اور متبادل مالیاتی حکمتِ عملی امریکی پابندیوں، تنازعات اور اقتصادی دباؤ کا شکار ایران ایک طویل عرصے سے متبادل تجارتی راستوں کی تلاش میں ہے:
- مقامی کرنسیوں میں تجارت: ایران برکس ممالک کے ساتھ دوطرفہ اور سہ فریقی مالیاتی سمجھوتوں کے ذریعے اپنی قومی کرنسی میں لین دین کو فروغ دے رہا ہے۔
- پابندیوں کا توڑ: نیو ڈیولپمنٹ بینک کی رکنیت کا بنیادی مقصد ڈالر پر انحصار ختم کرنا اور بین الاقوامی سطح پر مالیاتی لچک پیدا کرنا ہے۔
برکس نیو ڈیولپمنٹ بینک کیا ہے؟
- قیام: اس بینک کی بنیاد 2015 میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ (BRICS) نے مل کر رکھی تھی۔
- مقصد: ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں انفراسٹرکچر اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کرنا۔
- توسیع: متحدہ عرب امارات اور مصر کے بعد 2025 میں کولمبیا اور ازبکستان کی رکنیت منظور کی گئی، جس کے بعد ازبکستان جون 2026 میں باضابطہ طور پر اس کا حصہ بنا۔
یہ اقدام ایران کے لیے عالمی اقتصادی تنہائی سے نکلنے اور مقامی کرنسیوں کے ذریعے پائیدار تجارتی تعلقات استوار کرنے میں ایک اہم میل پتھر ثابت ہوگا۔

