خیبر پختونخوا حکومت کو گھر بھیجنے کا فیصلہ، قومی سلامتی کا معاملہ لانگ مارچ سے آگے نکل گیا: ذرائع
پی ٹی آئی حکومت پر دہشت گرد عناصر کی معاونت اور ملک کو کمزور کرنے کا الزام، فیصلہ سازوں کا بڑا قدم اٹھانے کا امکان
اسلام آباد(اردو خبرنامہ) ملک کے باخبر ذرائع کا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ فیصلہ سازوں نے خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں قائم حکومت کو ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، موجودہ صورتحال اب صرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ براہِ راست قومی سلامتی کا انتہائی حساس معاملہ بن چکی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فیصلہ سازوں کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی چاہے لانگ مارچ کرے یا اسے ملتوی کر دے، اس سے بنیادی مسئلے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل تشویش کی وجہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت اور اس کے کچھ سرکردہ رہنما مبینہ طور پر دہشت گرد عناصر کے ساتھ مل کر ملک کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کا باعث بن رہے ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وفاق اور متعلقہ ادارے اب کسی قسم کی مزید رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ہیں اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کی پالیسی کے تحت خیبر پختونخوا حکومت کی برطرفی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

