تازہ ترین

امریکی وزرا کی طنز اور بدتمیزی ناپائیدار: کینیڈین وزیراعظم کا واشنگٹن کو سنجیدہ گفتگو کا مشورہ

انہوں نے کہا کہ جب امریکی حکام بلاجواز جملے کسنے کا سلسلہ بند کر کے سنجیدہ مذاکرات کی میز پر آئیں گے تو کینیڈا بھی بات چیت کے لیے تیار ہوگا۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے کینیڈا اور اس کی افواج کے بارے میں جاری توہین آمیز بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی وزرا کی یہ غیر سنجیدہ گفتگو اور سوشل میڈیا پر طنز ان کے اعلیٰ مناصب کے بالکل خلاف ہے۔

کینیڈین وزیراعظم نے واشنگٹن کو پیغام دیا کہ امریکا کو طنز نگاری، اشتعال انگیزی اور تلخ لہجہ چھوڑ کر تجارتی و دوطرفہ معاملات پر سنجیدگی سے بات چیت پر توجہ دینی چاہیے۔ اپنے دفتر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب امریکی حکام بلاجواز جملے کسنے کا سلسلہ بند کر کے سنجیدہ مذاکرات کی میز پر آئیں گے تو کینیڈا بھی بات چیت کے لیے تیار ہوگا۔

یہ شدید ردعمل امریکی حکام کے حالیہ متنازع بیانات اور اقدامات کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے کینیڈا کی بحریہ کا موازنہ ویسٹ ایڈمنٹن مال کی ایک بند تفریحی سواری سے کرنا اور وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی کا یہ دعویٰ شامل ہے کہ کینیڈا کے پاس اپنی کوئی فوج نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر کینیڈین فوجی کیڈٹس کا تمسخر اڑایا، جبکہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ایسی ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں کینیڈین بطخوں کو صدر ٹرمپ جیسے بالوں کے ساتھ ہتھیار اٹھائے مارچ کرتے دکھایا گیا۔

امریکی انتظامیہ کے اس رویے پر کینیڈا اور خود امریکا کے اندر سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کینیڈا کے وزیر دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے پیٹ ہیگستھ کے بیان کو ان کے عہدے کے وقار کے منافی قرار دیا۔ دوسری جانب امریکی ریاست ایریزونا کے سینیٹر روبن گالیگو نے بھی اپنی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان بیانات کو احمقانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ ان کینیڈین سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کی توہین ہے جنہوں نے عالمی جنگوں میں امریکا کا ساتھ دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے