امریکہ نے بہت زیادہ مانگا اور بہت کم پیش کیا: کینیڈا کا تجارتی معاہدے سے دستبرداری کا اعلان
وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ‘منصفانہ اور مساوی شراکت داری’ ممکن نہیں رہی؛ کینیڈین خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا
اوٹاوا: کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات ختم کرتے ہوئے اپنی مذاکراتی ٹیم کو واپس بلا لیا ہے۔ وزیراعظم کارنی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ثقافت، آٹو سیکٹر اور کینیڈا کی خودمختاری کے حوالے سے ایسی کڑی اور ناقابلِ قبول شرائط عائد کی گئیں جن کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ امریکہ، کینیڈا کے ساتھ ایک حقیقی معاشی شراکت داری کا خواہاں نہیں ہے۔
اوٹاوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کینیڈین وزیراعظم نے واشنگٹن کے رویے پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا، "ہم وہ قبول نہیں کر سکتے جو انہوں نے پیش کیا اور وہ نہیں دے سکتے جو انہوں نے مانگا ہے، امریکہ نے حد سے زیادہ مانگا اور بدلے میں بہت کم پیش کیا”۔
ثقافت، کارسازی اور قومی خودمختاری پر تنازع ترجمان کے مطابق امریکی حکام نے کینیڈا میں فرانسیسی زبان کے میڈیا، فرانسیسی ثقافت کی امداد اور مصنوعات پر بائی لنگول (دو زبانوں والے) لیبلز کی لازمی شرط پر بھی اعتراضات اٹھائے، جسے کینیڈا نے پہلے روز ہی رد کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ آٹو انڈسٹری میں کینیڈین پرزہ جات پر غیر منصفانہ شرائط اور کچھ مخصوص گاڑیوں کو بلا جواز ٹیرف سے استثنیٰ دینے کے مطالبات شامل تھے۔
مذاکرات کے آخری لمحات میں امریکہ نے کینیڈا کو دیگر ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے کرنے سے روکنے کی شق بھی شامل کرنے کی کوشش کی، جسے کینیڈا نے اپنی قومی خودمختاری پر حملہ قرار دے کر مسترد کر دیا۔
ٹیرف کا جواب اور کینیڈین سیاستدانوں کا ردِعمل مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکہ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیے گئے ہیں۔ اس کے جواب میں کینیڈا نے بھی لیبر ڈے کے بعد آنے والے منگل سے امریکی مصنوعات پر اتنی ہی مالیت کے جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔
اونٹاریو کے پریمیئر ڈوگ فورڈ نے وزیراعظم کے اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا ایک برا معاہدہ قبول کرنے کے بجائے معاشی جنگ کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر پیئر پوئیلیور نے بھی امریکی ٹیرف کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملکی صنعتوں اور ورکرز کے تحفظ کے لیے حکومت کا ساتھ دینے کا اعادہ کیا ہے۔

