تازہ ترین

پاکستان اور قطر کی امریکا اور ایران سے کشیدگی روکنے اور مذاکرات کی میز پر لوٹنے کی اپیل

پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کو روکنے کے لیے دونوں ممالک سے تازہ رابطے کیے ہیں اور انہیں معاہدے کے تحت دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ثالثی کے عمل سے جڑے پاکستانی سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دونوں برادر ممالک واشنگٹن اور تہران کو جنگ سے روکنے اور ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے تحت بات چیت کی طرف واپس لانے کے لیے سرگرم ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال غیر متوقع ضرور ہے اور دونوں ممالک کے مسائل کافی پیچیدہ ہیں، لیکن اس کے باوجود مکمل جنگ کا کوئی امکان نہیں کیونکہ دونوں فریق جانتے ہیں کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ تاہم، موجودہ کشیدگی کے باعث مستقبل میں مزید جھڑپوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ذرائع نے بتایا کہ حالیہ فوجی ٹکراؤ سے پہلے امریکا اور ایران کے وفود نے اگلے ایک دو ہفتوں میں تکنیکی مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنا تھا، مگر اب ترجیحات بدل چکی ہیں۔ اس وقت ثالثوں کی پہلی کوشش لڑائی کو رکوانا ہے، جس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کی جائے گی۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد میں رکاوٹ آئی۔ ایران کا مطالبہ تھا کہ وہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا اور مکمل جنگ بندی کے بعد ہی آبنائے ہرمز کو کھولے گا، جبکہ امریکا کا مؤقف تھا کہ پرانے اور طے شدہ معاملات کو نئے تنازعات کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے صدور نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت فروری 2026 سے جاری کشیدگی کے مستقل خاتمے کے لیے دونوں ممالک کو 60 دنوں میں حتمی معاہدہ کرنا تھا۔ اس سلسلے میں سوئٹزرلینڈ اور دوحہ میں تکنیکی مذاکرات ہو چکے تھے اور اگلا مرحلہ اسلام آباد میں ہونا تھا، لیکن گزشتہ روز دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے شروع کر دیے۔ اس صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ میں نیٹو اجلاس کے دوران جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایران کو مزید حملوں کی دھمکی دی، جس پر ایران نے بھی سخت جوابی کارروائی کا انتباہ جاری کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے