پاکستان

پاک سعودی ترک دفاعی معاہدہ امریکا کے خلاف بدلتی سوچ کی علامت: ایران

جعلی ثالثوں سے سکیورٹی خریدنے کے دن ختم ہوچکے ہیں، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی

تہران: ایران نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امریکا کے حوالے سے بدلتی ہوئی سوچ کی علامت قرار دے دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ تین اہم علاقائی ممالک کا یہ دفاعی تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کے معاملے پر نئے انداز سے غور کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ سکیورٹی کوئی ایسی چیز نہیں جسے "غلط یا جعلی ثالثوں” سے خریدا جا سکے، بلکہ بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بجائے علاقائی سطح پر قابلِ عمل اقدامات ہی پائیدار حل ہیں۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حقیقت پسندانہ اور زمینی حقائق پر مبنی ایسے منصوبے نہ صرف خطے کو عدم استحکام سے بچا سکتے ہیں بلکہ اسرائیلی خطرات کے سامنے بھی بندھ باندھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کا یہ ردعمل انتہائی اہم ہے کیونکہ اسلام آباد، ریاض اور انقرہ امریکا کے ساتھ گہرے روابط رکھنے کے باوجود اپنی سکیورٹی کے لیے اب باہمی اشتراک پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ تہران کے مطابق دفاعی صلاحیتوں کا یہ باہمی فروغ بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرے گا، تاہم اس سہ فریقی معاہدے کے طویل المدتی اثرات آنے والے وقت میں واضح ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے