ٹرمپ کا بڑا اعتراف: ‘ایران میں حکومت بدلنے کی امید تھی، لیکن اندازہ غلط نکلا’
،مجھے بالکل ایسا ہی لگتا تھا۔ اگر ایرانی عوام کے پاس ہتھیار ہوتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے،ٹرمپ کا انٹرویو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم کے آغاز پر وہ پرامید تھے کہ وہاں حکومت کا تختہ الٹا جا سکتا ہے، تاہم بعد میں انہیں اپنی رائے بدلنی پڑی۔
فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا جنگ کے شروع میں وہ واقعی ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی توقع کر رہے تھے؟ تو انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا، "ہاں، مجھے بالکل ایسا ہی لگتا تھا۔ اگر ایرانی عوام کے پاس ہتھیار ہوتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ایرانی حکومت بقا کی خاطر اپنے ہی 52 ہزار یا اس سے زیادہ شہریوں کو مارنے پر تیار ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ اعتراف ان کے اس خطاب کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو انہوں نے 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کے آغاز پر کیا تھا۔ اس وقت امریکی صدر نے ایرانی عوام کو اکسایا تھا کہ وہ بمباری کے فوراً بعد سڑکوں پر نکلیں اور ریاستی اداروں پر قبضہ کر کے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیں۔
تاہم، اس اپیل کے محض چند روز بعد ہی ٹرمپ کے تیور بدل گئے اور انہوں نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ ایران میں حکومت مخالف قوتیں غیر مسلح ہیں، اس لیے وہ حکومتی فورسز کے سامنے نہیں ٹھہر سکتیں۔
اپنے انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگرچہ ایران کا موجودہ حکومتی ڈھانچہ اب بھی قائم ہے، لیکن انہوں نے جنگ کے دوران تہران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنا کر عملی طور پر ‘رجیم چینج’ کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی مہم کے تحت سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے بھی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن یہ کوشش ناکام رہی۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ نے ایک اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں موجود کرد جنگجوؤں نے وہ ہتھیار اپنے قبضے میں لے لیے جو مبینہ طور پر اسرائیل نے ایرانی فورسز کے خلاف سرحد پار کارروائیوں کے لیے فراہم کیے تھے۔

