پاک فوج کے خلاف مبینہ بیان کا معاملہ: مولانا فضل الرحمان گوجرانوالہ کی عدالت میں طلب
شہداء کا مذاق اڑانے کا الزام: جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے خلاف مقدمے کے لیے عدالتوں سے رجوع
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے پاک فوج اور شہداء کے خلاف مبینہ ہرزہ سرائی پر ان کے خلاف اندراجِ مقدمہ کی درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں، جس کے بعد گوجرانوالہ کی مقامی عدالت نے انہیں طلب کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، گوجرانوالہ کے ایڈیشنل سیشن جج فیصل جمیل کی عدالت میں شہری منظور قادر بھنڈر نے درخواست دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں پاک فوج کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی اور وطن کے شہداء کا مذاق اڑایا۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ ملکی اداروں کی تضحیک کرنے پر جے یو آئی سربراہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ عدالت نے اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کو 28 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
دوسری جانب، اسی نوعیت کی ایک اور درخواست پر لاہور کی سیشن عدالت میں بھی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل سیشن جج ملک لطیف کی عدالت میں شہری محمد وقار نے اپنے وکلاء مدثر چوہدری اور علی شان مناواں کے ذریعے درخواست دائر کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ سوشل میڈیا پر مولانا فضل الرحمن کی ایک جلسے کی تقریر وائرل ہے، جس میں انہوں نے شہداء کے خلاف نازیبا گفتگو کی۔ اس بیان سے شہداء کے ورثاء سمیت عام پاکستانیوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں، لہٰذا ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔
لاہور کی سیشن عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائمز ونگ (این سی سی) کے ڈائریکٹر سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 17 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔

