جنگ بندی کے بعد امریکا اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے
امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے بحرین میں امریکی تنصیبات کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا
امریکہ ایران جنگ بندی کے بعد پھر ایک دوسرے پر حملے شروع ہوگئے جس سے ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے کو نقصانات پہنچانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے بعد امریکی طیاروں نے ایران میں میزائل اور ڈرون کے ذخائر سمیت ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔سینٹکام نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران نے 25 جون کو ایم وی ایور لوولی نامی تجارتی جہاز پرحملہ کیا جس کے جواب میں امریکی فضائیہ نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر اور ریڈار مراکز پر حملے کیے۔بیان میں کہا گیا کہ تجارتی جہاز رانی کے خلاف ایران کی بلااشتعال کارروائی جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہے۔سینٹکام کے مطابق ایران کا یہ اقدام عالمی تجارت کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کے لیے بھی خطرہ ہے۔امریکی فوج نے کہا کہ فورسز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راہداری فراہم کرنے کے لیے بدستور موجود ہیں اور ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہر وقت چوکس ہیں۔
ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی کارروائیوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جبکہ بحرین، کویت اور عراق میں حملے کے پیش نظر غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فضائی حملوں کے جواب میں اس کی بحری اور ایرو اسپیس فورسز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔پاسداران انقلاب کے مطابق کارروائی ایران کے ساحلی علاقوں پر مبینہ امریکی حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر امریکا نے مزید فوجی کارروائی کی تو ایران اس سے کہیں زیادہ سخت اور وسیع جواب دے گا۔اس سے قبل ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی جنگی طیاروں نے خلیج فارس میں واقع جزیرہ سیرک کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم ایرانی فضائی دفاع نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔دوسری جانب بحرین کی وزارت داخلہ نے ملک میں خطرے کے سائرن بجنے کی تصدیق کی تاہم فوری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔کویت کی مسلح افواج نے بھی بتایا کہ فضائی دفاعی نظام ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے لیے متحرک ہے۔ حکام کے مطابق سنائی دینے والے دھماکوں کی آوازیں دفاعی نظام کی کارروائی کا نتیجہ ہیں جبکہ شہریوں کو سرکاری حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

