صدر ٹرمپ کا امریکا میں متوازی شرعی قانون کی نفاذ کی مخالفت کا اعادہ، یکساں آئینی نظام کی تاکید
ٹرمپ کا دعویٰ: امریکا میں بعض مقامات پر متوازی نظام قائم ہے، برطانیہ میں مظاہروں کی وائرل ویڈیو پر بھی بحث چھڑ گئی
واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں کسی بھی قسم کے متوازی قانونی نظام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا بھر میں صرف ایک ہی ملکی قانون اور آئینی نظام نافذ العمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے چند علاقوں میں شرعی اصولوں کی پاسداری کی شکل میں ایک الگ قانونی ڈھانچہ موجود ہے، جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
امریکا کا موجودہ قانونی اور آئینی فریم ورک تمام شہریوں کے لیے وفاقی اور ریاستی قوانین کی پابندی کو لازم قرار دیتا ہے۔ تاہم، تمام مذاہب کے پیروکاروں کی طرح مسلمان شہریوں کو بھی اپنے شخصی عقائد اور عبادات پر عمل کرنے کی مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اس تناظر میں سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذاتی زندگی میں مذہبی اصولوں کی پیروی اور ریاستی سطح پر متبادل عدالتی نظام قائم کرنے کے درمیان فرق کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد امریکا میں مذہبی آزادی کے تحفظ اور آئینی حدود سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ تجزئیہ کاروں کے مطابق ایسے بیانات سیاسی طور پر آئینی حدود کی نئی تعریف طے کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر برطانیہ سے متعلق ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہاں شرعی قانون کے نفاذ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو کو بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے برطانیہ میں مبینہ "اسلامائزیشن” کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاہم، الجزیرہ کی فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق اس ویڈیو میں کیے گئے دعووں کی حقیقت اور پس منظر پر شدید سوالات اٹھائے گئے ہیں اور اسے گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔

