انٹرنیشنل

ایران کو تنہا کرنے کے لیے چین ہمارا ساتھ دے: امریکا

جو ممالک ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات جاری رکھیں گے انھیں امریکا کے سخت اقدامات اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے:امریکہ کی دھمکی

واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی پالیسی میں مکمل تعاون کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھنے والے ممالک کو سخت امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

چین کی اہمیت اور امریکی دھمکی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ تمام ممالک کو ایران کے خلاف امریکی اقدام کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ چونکہ چین ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے اور تہران کی تجارت میں اہم حیثیت رکھتا ہے، اس لیے امریکی مہم کی کامیابی کے لیے بیجنگ کا موقف بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ جب چین کے خلاف ممکنہ اقدامات کے بارے میں سوال کیا گیا تو وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ چین کو اس ‘پروگرام کا حصہ’ بننا پڑے گا۔ یاد رہے کہ امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی ایران کے تیل اور شپنگ نیٹ ورکس کی معاونت پر چین اور ہانگ کانگ کی متعدد کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

تاریخی معاشی ناکہ بندی کا منصوبہ: وزیر خزانہ کے مطابق امریکا ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی مربوط معاشی پابندیوں کی تیاری کر رہا ہے جس کا مقصد ایرانی حکومت کی آمدنی محدود کر کے اس کی علاقائی طاقت کو ختم کرنا ہے۔ نئی معاشی مہم کی تفصیلات پیر کو ایک پریس کانفرنس میں جاری کی جائیں گی، جس میں ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے دیگر ممالک اور کمپنیوں پر دباؤ بڑھانا شامل ہے۔

فوجی آپشن کے بجائے معاشی دباؤ: امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف "زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ” کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ اگر یہ حکمت عملی کامیاب رہتی ہے تو فی الحال بڑے پیمانے پر ملٹری ایکشن کی ضرورت کم ہو سکتی ہے، تاہم واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ فوجی آپشن کو مستقل طور پر رد نہیں کیا گیا ہے۔ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تہران سے مالی روابط رکھنے والے ممالک کو سخت نتائج کی خبردار کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے