ٹیکنالوجی

جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا بڑا کارنامہ، دیوہیکل بلیک ہول کی ’خوراک‘ کا راز بے نقاب

مونٹریال:(اردو خبرنامہ) جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے سائنس دانوں نے پہلی بار یہ واضح مشاہدہ کیا ہے کہ کائنات کے دیوہیکل بلیک ہولز اپنی نشوونما اور بقا کے لیے گیس (ایندھن) کس طرح حاصل کرتے ہیں۔ اس اہم سائنسی دریافت کے نتائج 14 جولائی کو معروف سائنسی جریدے ‘دی آسٹروفزیکل جرنل لیٹرز’ میں شائع ہوئے ہیں۔

یونیورسٹی آف مونٹریال اور مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کی سربراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی ٹیم نے تحقیق کے دوران دیکھا کہ کہکشاؤں کے بیرونی گرم ماحول سے نکلنے والی گیس کی طویل دھاریاں براہِ راست بلیک ہول کے گرد تیزی سے گھومنے والی گیس کی ڈسک (Accretion Disk) تک پہنچتی ہیں۔ یہ ڈسک وہ آخری مقام ہوتی ہے جہاں سے گیس بلیک ہول کے اندر گرتی ہے اور اسے مزید طاقتور بناتی ہے۔

تحقیقی ٹیم نے اس عمل کو سمجھنے کے لیے زمین سے 14 کروڑ 50 لاکھ نوری سال کی دوری پر واقع سینٹورس کلسٹر کی سب سے بڑی مرکزی کہکشاں ‘این جی سی- 4696’ (NGC-4696) کا انتخاب کیا۔ سائنس دانوں نے ٹیلی اسکوپ کے جدید آلے ‘NIRSpec’ کی مدد سے تقریباً 8 گھنٹے تک اس کہکشاں کا مشاہدہ کیا۔ یہ آلہ انفراریڈ روشنی کو مختلف طولِ موج (Wavelengths) میں تقسیم کر کے یہ بتاتا ہے کہ گیس کس سمت جا رہی ہے اور اس کی کیمیائی ساخت کیا ہے۔

محقق میگن ڈوناہیو کے مطابق، جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے بلیک ہول کے زیرِ اثر علاقے میں 30 نوری سال جیسے باریک کائناتی ڈھانچوں کو بھی انتہائی تفصیل سے ریکارڈ کیا۔ لاکھوں نوری سال پر پھیلی کہکشاں میں اتنی باریک تفصیلات کا مشاہدہ سائنس کی دنیا میں ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس دریافت سے بلیک ہولز اور کہکشاؤں کے باہمی ارتقا سے متعلق کئی دہائیوں پرانے سوالات کے جواب مل سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے