انٹرنیشنل

یروشلم میں امریکی سفارتخانے کی تعمیر کیلئے اسرائیل سے معاہدہ ہوگیا

دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں مفادات کے لیےایک دوسرے کیلئے ناگزیر ہیں، اسرائیلی وزیرخارجہ

یروشلم (اردو خبرنامہ)امریکا نے یروشلم میں مستقل سفارت خانے کی تعمیر کے لیے اسرائیلی حکام کے ساتھ زمین مختص کرنے کے معاہدے پر دستخط کرلیے۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور امریکا نے یروشلم میں مستقل امریکی سفارت خانے کی تعمیر کے لیے الینبے کمپلیس میں زمین مختص کرنے کے معاہدے پر دستخط کرلیے ہیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق وزیرخارجہ گیڈیون سار، امریکی سفیر مائیک ہکابی اور یروشلم کے میئر موشے لیون نے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی جو دفترخارجہ میں منعقد ہوئی۔
امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ آج امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کے لیے ایک اور تاریخی دن ہے اور امریکا نے زمین حاصل کرلی ہے جو مستقبل میں نئے امریکی سفارت خانے کا مرکز ہوگا، جس سے یروشلم میں ہماری موجودگی مزید وسیع اور گہری ہوگی۔
اسرائیلی وزیرخارجہ گیڈیون سار نے کہا کہ ہم نے اسرائیل اور امریکا کے درمیان ناقابل شکست اتحاد کا ایک اور سنگ میل عبور کرلیا ہے اور اس کو مشرق وسطیٰ میں اسرائیل واشنگٹن کا انتہائی اہم اسٹریٹجک اثاثہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح امریکا اسرائیل کے لیے ناگزیر اور ناقابل متبادل ہے، اسی طرح اسرائیل بھی امریکا کے لیے خطے میں اپنے مفادات کے لیے ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا 2017 میں سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے لیے کیے گئے تاریخی فیصلے نے ریکارڈ درست کردیا ہے، مستقل سفارت خانے کی عمارت تعمیر کرنے کا آج کا معاہدہ مزید پائیدار حیثیت اختیار کرچکا ہے۔
فلسطین اور اسرائیل کے درمیان یروشلم سب سے بڑا تنازع ہے، جس سے فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے