امریکی صدر کے دستخط بے وقعت، واشنگٹن کو ناقابلِ فراموش سبق سکھائیں گے: ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای
سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت ایرانی عوام کے اتحاد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا پر جنگ بندی کے معاہدے اور مفاہمتی یادداشت کی مسلسل خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ ایران واشنگٹن کو ایسا ناقابلِ فراموش سبق سکھائے گا جسے وہ کبھی نہیں بھلا سکے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا (آئی آر آئی بی) کے مطابق سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت ایرانی عوام کے اتحاد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ تجہیز و تکفین کے اس نازک وقت میں بھی امریکا کی جانب سے دستخط شدہ معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر دنیا پر ثابت ہو گیا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط بے وقعت، بے اعتبار اور ناقابلِ اعتماد ہیں۔ غنڈہ گردی اور سفاکی امریکی طرزِ عمل کا حصہ ہے، اور وہ خطے میں جنگ کو ہوا دے کر ایران پر اضافی قیمت مسلط کرنا چاہتا ہے، تاہم ایرانی قوم اور مسلح افواج اس کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ ریاستی اداروں پر اعتماد اور باہمی اتحاد برقرار رکھیں تاکہ دشمن کو کمزوری کا کوئی اشارہ نہ ملے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران دباؤ یا فوجی کارروائیوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جائے گا۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ بندی کا معاہدہ چند ہی روز میں ختم ہو چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ اس کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کر دیا گیا ہے جبکہ امریکی بحری ناکہ بندی بھی جاری ہے۔

