امریکا میں گرمی کی شدید لہر کے باعث فیفا ورلڈ کپ بھی متاثر
ڈلاس، ہیوسٹن، میامی اور کنساس سٹی میں کھیلے جانے والے متعدد میچ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں
شمالی امریکا میں جاری فیفا ورلڈ کپ 2026ء اس وقت شدید ترین گرمی، حبس اور طوفانی موسم کی لپیٹ میں ہے، جس کی وجہ سے انتظامیہ کو میچوں کے اوقات اور کھیل کے طریقہ کار میں ہنگامی تبدیلیاں کرنی پڑ رہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق، ہیٹ ویو (گرمی کی شدید لہر) کے باعث متعدد میزبان شہروں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا گیا ہے، جبکہ ہوا میں نمی کے زیادہ تناسب (حبس) نے میدان میں موجو
د کھلاڑیوں اور اسٹینڈز میں بیٹھے شائقین دونوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ خاص طور پر ڈلاس، ہیوسٹن، میامی اور کنساس سٹی جیسے شہروں میں ہونے والے میچز اس موسمی شدت سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ کھلاڑیوں کو ہیٹ اسٹروک اور ڈی ہائیڈریشن سے بچانے کے لیے فیفا نے میچوں کے دوران کولنگ بریکس (پانی پینے کے وقفے) لازمی قرار دے دیے ہیں، جبکہ کچھ میچوں کا وقت تبدیل کر کے انہیں ٹھنڈے اوقات میں منتقل کیا گیا ہے۔
آنے والے دنوں میں انگلینڈ اور کانگو، بیلجیئم اور سینیگال، جبکہ امریکا اور بوسنیا ہرزیگووینا کے درمیان ہونے والے مقابلے بھی اسی شدید گرمی اور حبس کے سائے میں کھیلے جانے کا امکان ہے، جس سے کھلاڑیوں کی توانائی اور کھیل کی رفتار سست ہونے کا خدشہ ہے۔
سخت گرمی کے ساتھ ساتھ طوفانی موسم اور آسمانی بجلی کا کڑکنا بھی ٹورنامنٹ کے لیے ایک بڑا سردرد بن چکا ہے۔ فیفا کے حفاظتی قوانین کے مطابق، اگر آسمانی بجلی گرنے کا معمولی سا بھی خطرہ ہو تو کھیل کو فوراً روک دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال میکسیکو اور ایکواڈور کا میچ ہے، جسے بجلی چمکنے کے باعث تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع کرنا پڑا تھا۔ ماہرینِ موسم نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی اور جنوبی امریکا کے شہروں میں شیڈول آئندہ ناک آؤٹ میچز بھی اسی طرح کے خراب موسم کی وجہ سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

