تازہ ترین

خیبر پختونخوا کو جلتا چھوڑ کر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے، مجبورا گورنر راج لگانا پڑا، وزیر اعظم

آخری دہشتگرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،  ہمارے جوانوں اور افسران کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، شہباز شریف

خیبرپختونخوا میں مجموعی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خیبرپختونخوا ایپکس کمیٹی کا اہم ترین اجلاس گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا میں منعقد کیا گیا۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے، ہمیں مجبوری میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا، اللہ سے دعا ہے کہ صوبے میں، امن اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرے، پشاور سکول کی چھت گرنے سے ایک استانی اور بچوں کی المناک وفات پر بہت غمزدہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ گورنر صاحب کو کہا تھا کہ وہ متاثرہ جگہ کا فوری دورہ کر کے اس سانحے کی مکمل تحقیقات کرائیں، چند برسوں میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کی وجہ سے یہ صوبہ بہت متاثر ہے، چھ برسوں میں جو حالات پید ا کئے گئے اُس کے بعد امن و امان کو بہت نقصان پہنچا، ہماری بہادر افواج اور سیکورٹی اداروں نے بہت قربانیاں دے کر خیبر پختونخوا سمیت پاکستان میں دہشت گردی کا قلع قمع کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دو ہزار اٹھارہ تک اس صوبے میں مکمل امن قائم ہو گیا تھا، یہ امن سیکیورٹی اداروں سمیت ہماری ماؤں، بہنوں اور بچوں کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوا تھا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار لوگ شہید اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا،  خیبرپختونخوا کے کئی سیاسی خاندانوں نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں، کئی گھراجڑ گئے، عظیم قربانیوں کے نتیجے میں مکمل امن قائم ہوا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قیام امن کے بعد پی ٹی آئی دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا، تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا ، جس کا خمیازہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑا، قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ہماری سیکورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں، ان قربانیوں کا احساس اور احترام نہ کرنے سے بڑی ملک دشمنی کوئی اور نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت ، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، اس سے بڑی مجرمانہ غفلت اور بے حسی کی مثال اور نہیں ہو سکتی، اسی وجہ سے حالیہ چند برسوں میں دہشت گردی میں پھر اضافہ ہوا، گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی پانچ ہزار آسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبہ ابھی بھی نامکمل ہے، انسداد دہشت گردی محکمے اور پولیس کی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، 2010کے این ایف سی ایوارڈ میں تمام صوبوں نے ملکر خیبر پختونخوا کی مدد کا فیصلہ کیا، تمام صوبوں نے انسداد دہشت گردی کے لئے خیبر پختونخوا کو وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا، صوبوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تمام وزراء اعلی نے فیصلہ کیا کہ وفاق اور صوبوں کے حصے کے فنڈز میں سے ایک فیصد اضافی خیبر پختونخوا کو دئیے جائیں، 2010 کے بعد سے خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مد میں آٹھ سو ارب روپے دئیے گئے، افسوس کا مقام ہےکہ دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے مزید ابھر کر سامنے آ گئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کو تربیت اور جدید اسلحہ اور دیگر آلات نہیں دئیے گئے، خیبر پختونخوا سے متعلق یہ انتہائی تکلیف دہ داستان ہے، وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے وزرائے اعلی کو یقین دلایا تھا کہ انسداد دہشت کے لئے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، گذشتہ ڈھائی سال میں ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لئے دن رات محنت کی گئی، سیاسی اور عسکری قیادت کی دن رات کوششوں سے ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوستوں کے ساتھ اغیار بھی اقرار کرتے ہیں کہ پاکستان نے معیشت بحال کی، کیا ہم خیبرپختونخوا کو مزیدجلتے ہوئے دیکھتے رہتے؟ ہم نے سیاسی کمیٹی بنائی انھوں نے اڑتالیس گھنٹے تک مذاکرات میں بہت محنت کی، کب تک ہم خیبر پختونخوا میں خون ریزی برداشت کرتے رہتے؟ میں نے خیبر پختونخوا کے انتہائی خراب حالات پر صدر مملکت سے دو بار مشاورت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہی وجوہات کی بناء پر خیبر پختونخوا میں سخت فیصلے کرنے پڑے، مشاورتی کونسل وجود میں آ چکی ، جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیں، مشاورتی کونسل میں قابل اور ایماندار لوگ شامل ہیں، تیرہ سال سے صوبے کے عوام ترسے ہوئے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوں، خیبر پختونخوا کے عوام چاہتے ہیں کہ انھیں بھی بنیادی سہولتیں انکی دہلیز پر میسر ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے