خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی؛ سہیل آفریدی سمیت 8 پی ٹی آئی رہنما گرفتار
ایسی حکومت نہیں ہوسکتی جو دہشت گردوں سے ہمدردی رکھے، کے پی میں آئین کے تحت اقدام کیا گیا، عطا تارڑ
پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے حوالے گرفتاری کی خبروں پر وضاحت سامنے آ گئی۔صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف کے 8 اہم رہنما پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں۔ پولیس حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ زیرِ تحویل رہنماؤں میں صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر بھی شامل ہیں۔سینئر پولیس افسر کے مطابق صوبے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم سیاسی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے، تاہم دیگر 5 رہنماؤں کے نام نہیں بتائے گئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے غیر ملکی نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اتفاق رائے کے لیے مذاکرات کے ذریعے متعدد کوششیں کی گئیں، ہمارا صرف ایک غیر سیاسی ایجنڈا تھا، پی ٹی آئی اپنا مارچ جاری رکھ سکتی تھی اور اپنے دیگر سیاسی مطالبات بھی پیش کر سکتی تھی، تاہم وفاقی حکومت صرف دہشت گردی کے خلاف متحدہ اور متفقہ پالیسی اختیار کرنا چاہتی تھی۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ملک میں ایسی حکومت نہیں ہو سکتی جو دہشت گردوں سے ہمدردی اور ان کی حمایت کرے اور ایسی پالیسی اپنائے جس سے دہشت گردوں کو اپنی کارروائیاں اور سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع ملے۔ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور مشترکہ پالیسی کے بارے میں مذاکرات کر رہے تھے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک ملک کی دو خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں۔ ایک طرف وفاقی حکومت افغانستان کے حوالے سے بات چیت اور سفارتی کوششیں کر رہی ہے اور مطالبہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں۔ عبوری افغان حکومت قابل اعتبار اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال نہ ہو، جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت کی عبوری افغان حکومت کے بارے میں الگ پالیسی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ایک ہی ملک میں دو مختلف پالیسیاں کیسے ہو سکتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آئین سازوں نے آئین میں متعلقہ دفعات ایسے ہی حالات سے نمٹنے کے لیے شامل کی تھیں، لہٰذا اٹھائے گئے اقدامات 1973 کے آئین کے تحت قانونی طور پر درست ہیں۔ صوبے میں حکمرانی کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا اور امن و امان کی صورت حال بھی مکمل طور پر خراب ہو گئی تھی۔

