انٹرنیشنل

ایران کی فوجی و تکنیکی امداد فوری بند کی جائے؛ ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر کو سخت تنبیہ

امریکی اعتراضات کے باوجود 2026 کے پہلے چھ ماہ میں چین سے ایران کو 1300 سے زائد حساس ہوائی کھیپوں کی ترسیل کا انکشاف

واشنگٹن(اردو خبرنامہ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جنپنگ کے ساتھ ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات میں ایران کو فراہم کی جانے والی چینی فوجی و تکنیکی معاونت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بیجنگ کو خبردار کیا ہے۔

چین کے لیے امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے ایک انٹرویو میں تصدیق کی کہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی حالیہ ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ چین کی جانب سے ایران کو انٹیلی جنس معلومات، آلات یا فوجی پرزہ جات کی فراہمی امریکہ کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ سفیر کے مطابق امریکی حکام گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ معاملہ مسلسل بیجنگ کے سامنے اٹھاتے رہے ہیں۔

امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے ایرانی کسٹمز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ 2026 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران چینی کمپنیوں نے ایران کی وزارتِ دفاع کو تقریباً 1,300 ہوائی کھیپیں ارسال کی ہیں۔ ان میں جی پی ایس سسٹمز، الیکٹرک موٹرز، حساس الیکٹرانک پرزے اور طیاروں کے انجن کے اجزاء شامل ہیں، جنہیں ڈرونز اور گائیڈڈ میزائل بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 17 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی کے عین روز بھی چین سے سامان کی ایک کھیپ تہران پہنچی، جبکہ اس کے اگلے دو دنوں میں ڈرون پرزہ جات پر مشتمل مزید درجن سے زائد کھیپیں منتقل کی گئیں جن کی مالیت 60 لاکھ ڈالر سے زائد تھی۔

دوسری جانب، بیجنگ انتظامیہ نے امریکی الزامات اور یکطرفہ پابندیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ چین کا موقف ہے کہ وہ تجارتی سامان اور دہرے استعمال (سول و ملٹری) کی اشیاء کی برآمدات کو قانونی دائرے میں منظم کرتا ہے اور امریکہ کی جانب سے عائد کردہ یکطرفہ پابندیوں کی شدید مخالفت کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے