پاکستان

وفاقی حکومت کاپارلیمینٹ میں نئے صوبوں پر بحث کرانے کا اعلان

اکتوبر میں پارلیمان کے اجلاس ہورہے ہیں ان میں نئے صو بو ں کے قیام پر بحث کرائی جائیگی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی حکومت نے اکتوبر میں قومی اسمبلی و سینیٹ میں نئے صوبوں پر بحث کرانے کا اعلان کردیا۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طا ر ق فضل چوہدری نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ستمبر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس نہیں ہورہے ہیں تاہم اکتوبر میں پارلیمان کے اجلاس ہورہے ہیں ان میں نئے صو بو ں کے قیام پر بحث کرائی جائیگی۔ انہوں نے کہا نئے صوبوں کی بحث کا اصل مقام پارلیمنٹ ہاؤس ہی ہے۔وفاقی دارالحکومت کے حوالے سے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد صوبہ نہیں بن رہا ہے بلکہ ایک نئے گورننس ماڈل اختیار کرنے جارہے ہیں، اسلام آباد کو الگ صوبہ بنانے کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا اسلام آباد کو پانچواں صوبہ بنانے کی باتیں درست نہیں، اسلام آباد کو دنیا کے باقی دارالحکومتوں کی طرح بنانے کی سفارشات تیار کی گئی ہیں جن پر تمام سیاسی جماعتوں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشا و رت کی جائے گی۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا اس وقت نئے صوبوں کی بحث ملک کے گلی کوچو ں۔بازاروں اور دیگر مقامات میں ہورہی ہے۔انہوں نے کہا نئے صوبوں کے قیام پر بحث کی اصلی جگہ پارلیمنٹ ہاؤس ہے وہاں پر یہ بحث ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا اکتوبر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں نئے صوبوں پر بات ہوگی۔انہوں نے کہا میڈیا پر تسلسل کیساتھ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اسلام آباد صوبہ بننے جا رہا ہے،میں واضح کرتا ہوں کہ اسلام آباد نہ تو صوبہ بننے جا رہا ہے اور نہ صوبہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا اسلام آباد وفاقی علاقہ ہے اور اس کے وفاقی حیثیت کو برقرار رکھنے ہوئے ہم اس کے گورننس سسٹم کو بہتر بنائیں گے۔انہوں نے کہا اسلام آباد کی بہتری کیلئے وزیراعظم نے جو کمیٹی بنائی تھی اس کی سفارشات ہیں اسلام آباد میں ایک قانون ساز اسمبلی ہونی چاہیے اس قانون ساز اسمبلی کے ماتحت تمام ادارے ہونگے۔انہوں نے کہا یہ ایک آسان ماڈل ہوگا جس میں ہماری کوء ذہنی اختراع نہیں ہے بلکہ دنیا کے کئی دارالحکومتوں کے ماڈل کے مطالعے کے بعد یہ سفارشا ت تیار کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا اسلام آباد کے حوالے سے جو ماڈل تیار کیا گیا ہے اس کو دیگر سیاسی جماعتوں۔ووکلا برادری اور تاجر برادری سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے سامنے رکھا جائے گا اور ان کی آراء لی جائے گی۔انہوں نے کہا وزیراعظم کی جانب سے ہدایت کی گئی کہ اس معاملے پر عوامی اسمبلی بھی کرائی جائے۔جس کے بعد اس کو ایکٹ کی شکل د ینے کیلئے وزارت قانون کو بھجوایا جائے گا۔انہوں نے کہا اسلام آباد پانچواں صوبہ نہیں بننے جا رہا ہے اس پر ملک کے چاروں صوبوں کا حق ہے اور اس حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا اس میں صوبوں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔واضح رہے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ذرائع نے بتایا تھا اسلام آباد میں بلدیاتی نظام کے بجائے نیا نظام متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے، جس کے تحت 27 رکنی اسمبلی ہوگی اور چیف ایگزیکٹیو کیلئے وزیراعلیٰ یا میئر کا عہدہ تخلیق کیا جائے گا۔اسلام آباد میں مقامی حکومتوں سے متعلق آرڈیننس کی مدت معیاد ختم ہوگئی اور 9 جنوری 2026 کو جاری ہوئے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کو نافذ ہوئے 240گزر گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے