تازہ ترین

لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن پڑھنے کے دوران چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

بائیس بچوں کو نکالا گیا 14 جانبر نہ ہوسکے، 8 بچے اور ایک ٹیچر زخمی، پانچ افراد زیر حراست

اہور: کاہنہ نو میں ٹیوشن پڑھنے کے دوران گھر کی چھت گرنے سے متعدد بچے دب گئے، ملبے سے 22 بچوں کو نکالا گیا، 14 جاں بحق ہوگئے جب کہ 8 بچے اور ایک خاتون ٹیچر زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق کاہنہ نو کے دیہاتی علاقے بستی عید گاہ میں گھر میں کسی نے ٹیوشن سینٹر کھولا ہوا تھا، جہاں روزانہ 30 سے 35 کے قریب بچے پڑھنے آتے تھے، اس گھر کی دھماکے سے چھت گرگئی جو کہ ٹی آر گارڈر کی بنی ہوئی تھی۔محلے داروں نے فوری طور پر امدادی اداروں کو فون کیا، پولیس اور امدادی ادارے پہنچ گئے، فوری طور پر خاتون اسکول ٹیچر اور کئی بچوں کو نکال لیا گیا۔امدادی ادارے کے مطابق نکالے گئے بچوں کی سانسیں بند ہورہی تھیں امدادی کارکنان نے فوری طور پر بچوں کے منہ اور ناک سے مٹی نکالی تاکہ سانسیں بحال ہوسکیں اور انہیں اسپتال روانہ کردیا۔ نکالے گئے کئی بچوں کی حالت نازک تھی کئی بچوں کی نبض بھی نہیں چل رہی تھی۔اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ گھر کی چھت پر مٹی کی بھی بڑی مقدار موجود تھی، چھت گرنے پر بچے مٹی میں دب گئے، گھر کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے۔
امدادی ادارے کے مطابق بچوں کی مجموعی تعداد بیس سے پچیس کے درمیان ہوسکتی ہے، 22 بچوں کو نکالا گیا جب کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں 35 بچے ٹیوشن پڑھنے آتے تھے۔امدادی ادارے 1122 نے اوزاروں کے بجائے ہاتھوں سے مٹی ہٹانے کو ترجیح دی تاکہ پھنسے بچوں کو نقصان نہ پہنچے۔ایم ایس ٹی ایچ کیو کاہنہ نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں 14 بچے جاں بحق ہوگئے، خاتون ٹیچر اور 8 بچے زخمی ہوئے۔معلوم ہوا ہے کہ انیلہ ریحان نامی خاتون نے گھر میں ٹیوشن سینٹر کھولا ہوا تھا اور وہ خود ہی پڑھاتی تھی وہ بھی زخمی ہے جب کہ گھر خستہ حال تھا۔ پولیس نے مالک مکان سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا۔کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، پانچ گرفتارڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق 8 بچے اور ایک ٹیچر زخمی ہیں،14 بچوں کی ہلاکت کنفرم ہو چکی ہے، متاثرہ عمارت ایک سنگل اسٹوری بلڈنگ ہے، کمرے کی چھت پر مٹی ڈالی جا رہی تھی، مزدور کام کر رہے تھے، 5 لوگوں کو حراست میں لیا ہے، ابتدائی تحقیقات جاری ہیں، جاں بحق بچے اسی محلے کے رہنے والے تھے، پی ایف ایس کی ٹیم بھی آ رہی ہے، بلڈنگ کی حالت کا جائزہ لے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے