گورنر راج، پارلیمنٹ کی بھاری اکثریت سے توثیق
اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود دونوں قراردادیں کثرت رائے سے منظور
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کردی۔ وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی قراردادوں کی اپوزیشن نے مخالفت کی لیکن کثرت رائے سے منظوری دیدی گئی۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے تمام آئینی مراحل مکمل ہوگئے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی الگ الگ منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدارتی اقدام کی باقاعدہ توثیق کردی گئی ۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے آئین کے آرٹیکل دوسوبتیس کے تحت ایمرجنسی اور آئین کے آرٹیکل دوسوچونتیس کے تحت گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کے لیے قراردادیں پیش کیں جن پر پانچ گھنٹے سے زائد بحث کی گئی ۔ اپوزیشن نے قراردادوں کی مخالفت کی ۔ا سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے دونوں قراردادیں منظوری کے لیے الگ الگ پیش کیں جنہیں کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔ جس کے بعد سپیکر نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ اورقومی اسمبلی نے ایمرجنسی،گورنرراج کی منظوری دی،خیبرپختونخوامیں آئین کے مطابق ایمرجنسی،گورنرراج کا نفاذ کیا گیا، ٹی ٹی پی والوں کو کس نے دوبارہ پاکستان آنے کی اجازت دی؟ 40سے 45 ہزار ٹی ٹی پی کے لوگ دوبارہ لانے کی اجازت دی گئی،غلط فیصلے کرنے والے دہشتگردی واپس لانے کے ذمہ دارہیں، کتنی بار ہم اپنی سیاست کی وجہ سے شہریوں کو شہید کروائیں گے، دہشتگردی سے اب بھی نہ نمٹا گیا تو کب نمٹی
نائب وزیراعظم نے کہا کہ مولانافضل الرحمان نے کہا تھا دوبارہ مذاکرات کی کوشش کر لیں، وزیراعظم نے مولانافضل الرحمان کو کہا معاملہ دور جا چکا ہے، وزیراعظم نے کہا معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا ہے، ٹی ٹی پی کا لفظ لکھنے سے انکار کیا گیا، ٹی ٹی پی کا لفظ تو افغان عبوری حکومت استعمال نہیں کرتی، ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بی ایل اے اور دیگر گروپس کر رہے ہیں، پاکستان کے پاس دہشتگردی کے شواہدہیں،عالمی اداروں کو پیش کئے جا چکے۔
انہوں نے کہا کہ وہ چند لوگ کون تھےجنہوں نے بارڈر کے دروازے کھولے اور دہشتگردوں کو آنے دیا گیا، ٹی ٹی پی کو خوش آمدید کہا گیا، اپنی سیاست کی وجہ سے غلطیاں کیں جس سےدہشتگردی دوبارہ آئی، پاکستان نے اس کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے، یہ معاملہ سیاسی مفاہمت سے آگے نکل چکا ہے، پہلے ہمیں دہشتگردی کے ناسور سے نمٹنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان کو وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ فیصلہ کرے گی۔

